2 اکتوبر 2011 - 20:30

آیت اللہ مجتبٰی حسینی نے کہا ہے کہ شیعہ اور سنی کی وحدت کے حوالے سے جب ہم بات کرتے ہیں تو وحدت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے عقائد میں کمزور پڑ جائیں اور نہ ہی یہ ہے کہ اہل سنت حضرات اپنے عقائد پر کمپرمائز کریں اور پیچھے ہٹ جائیں، وہ اپنے عقائد پر رہیں اور آپ اپنے عقائد پر، لیکن آپ دونوں کے درمیان جو مشترکہ مسائل ہیں ان پر اکٹھے ہوں، یہ بنیاد ہے، البتہ علمی محفلوں میں دلائل دیں، ان کے دلائل سنیں، لیکن شائستگی سے، اچھے انداز میں۔ لیکن گالیوں کے ذریعے سے، نشانہ بنا کر اور طنز اور تیر برسا کر نہیں، ایسی روش نہیں ہونی چاہیے۔

ابنا: چند روز قبل رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے شام میں نمائندہ خاص حضرت آیت اللہ سید مجتبٰی حسینی پاکستان کے دورے پر آئے، انہوں نے یہاں پاکستان کے مختلف شہروں میں سیمینارز سے خطاب کیا اور اسلامی تحریکوں اور عالم اسلام میں بیداری سے متعلق اہم موضوعات پر گفتگو کی، اسلام آباد میں آیت اللہ سید مجتبٰی حسینی سے تنظیمی افراد کی ایک خاص نشت ہوئی، جس میں الٰہی تنظیم کے اوصاف سے متعلق اہم موضوع پر گفتگو ہوئی، جس میں اسلام ٹائمز سمیت دیگر احباب نے اُن سے سولات کئے۔ اسلام ٹائمز نے اُن سوالات کے جوابات کو اپنے قارئن تک پہنچانے کیلئے اسے انٹرویو کی شکل دی ہے، جو پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز:کیا یہ درست ہے کہ امام خمنی رہ تنظیم اور تشکیلات کے مخالف تھے۔؟آیت اللہ سید مجتبٰی حسینی: امام خمینی رہ حزب اور پارٹی کے کلیدی مخالف نہیں تھے اور اگر مخالف تھے تو اُن پارٹیوں کے خاص رویوں کے، جن میں وہ صرف اور صرف اپنے مفادات کے لیے کام کرتی ہیں، امام رہ اس روش کے مخالف تھے، لہٰذا یہ کہنا کہ امام خمینی رہ نے جس طرح تحریک چلائی ہے اس میں پارٹی کا کوئی تصور نہیں تھا، ایسا نہیں تھا۔ دوسری بات امام خمینی رہ حزب اور پارٹی کے حوالے سے جس مفہوم کے قائل تھے وہ مفہوم قرآنی ہے۔ جس کے بارے میں کہا گیا کہ احزاب، گروہ اور جو تنظیمیں کام کرتی ہیں وہ خیر کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ یعنی گناہ اور برائی کے کاموں میں ایک دوسرے کا ہاتھ نہ بٹائیں، اگر کوئی شخص، کوئی گروہ اور گروپ اگر ایک نیک کام کرتا ہے تو اس میں مخالفت نہ کی جائے بلکہ اس میں اس کا ساتھ دیا جائے اور اسے آگے بڑھائیں، اگر رہبر کا پیغام کوئی گروہ یا کوئی دوسری تنظیم شائع کرتی ہے تو کسی دوسرے گروہ کو اس سے تکلیف نہیں ہونی چاہیے بلکہ انہیں سپورٹ کیا جانا چاہیے۔ یہ کیفیت اگر آپ اپنے اندر پیدا کر لیتے ہیں تو یہ ہے حزب دینی ہے۔انسان میں یہ کیفیت نہیں ہونی چاہیے کہ میں خیر کا کام کروں، لہٰذا دوسرا اُسے انجام نہ دے، اس روش کے امام خمینی رہ بھی مخالف تھے اور قرآن بھی مخالف ہے۔ امام خمینی رہ کے پاس ایسی پارٹی نہیں تھی لیکن پارٹی نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نظم نہیں تھا۔ نظم تھا، گروپس موجود تھے۔ پورے ملک کے اندر، ہر شہر میں ان کے لوگ موجود تھے، لہٰذا جب امام خمینی رہ کا کوئی ایک پیغام نشر یا صادر ہوتا تھا تو وہ پیغام 24 گھنٹوں کے اندر ایران کے کونے کونے تک پہنچتا تھا۔ یہ چالیس سال پہلے کی بات ہے جب آج جیسے وسائل نہیں تھے، تو کیا ہم سوچ سکتے ہیں کہ یہ سب اس زمانے میں نظم اور تشکیلات کے بغیر تھا۔؟ گروپس موجود تھے، اسٹرکچر ان کے پاس موجود تھا کہ وہاں جب پیغام پہنچتا تھا تو وہ فوری طور پر اس کی فوٹو کاپیاں کراتے تھے اور ملک کے گوش و کنار میں پہنچا دیتے تھے، البتہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بھی امام رہ کے پیغام کو فوراً امام بارگاہوں اور اجتماعات کے مقامات پر پہنچایا کرتے تھے۔حزب اللہ بھی ایک ایسی ہی جماعت ہے، جس کی تشکیلات ہیں، جس کا اسٹرکچر ہے اور حزب اللہ جس ماحول میں کام کر رہی ہے وہاں پر اس طرح کے تنظیمی اسٹرکچر کے بغیر کام ممکن ہی نہیں، لہٰذا تشکیلات بنائی، تنظیم بنائی اور جنگ بھی کی اور انہی تشکیلات کے نتیجے میں ملک کے اندر انہوں نے کام بھی کیا۔ حزب اللہ نے جب تشکیلاتی کام کیا تو انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ ہمارے شیعہ ہیں یا یہ حزب اللہ کے لوگ ہیں تو انہی کو ہم آگے لائیں گے۔ حزب اللہ کے افراد نے شیعیت سے نکل کر مسلمانوں تک اور مسلمانوں سے نکل کر عیسائیوں تک کوشش کی کہ سب کو اپنے ساتھ شامل رکھیں، لہٰذا جہاں جہاں انہوں نے سیاسی حوالے سے افراد کھڑے کیے وہاں عیسائیوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا۔ عیسائیوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کا مطلب یہ تھا کہ اگر ہم خیر کا کام کرتے ہیں تو اس خیر کا تعلق صرف ہمارے گروپ کے لوگوں سے نہ ہو بلکہ اس معاشرے میں بسنے والے ہر فرد اور ہر مذہب کے لوگوں سے ہو، لہٰذا اس کے نتیجے میں معاشرے میں ان کو مقبولیت ملی اور اُن لوگوں نے انہیں قبول کیا۔ امام خمینی رہ نے اسی لیے حزب اللہ کی تاسیس کا حکم بھی دیا اور اس کی تائید بھی کی، وہاں کے ماحول کے مطابق حزب اللہ جیسی جماعت کو تشکیلات کی ضرورت تھی۔اسلام ٹائمز:پاکستان میں ایک تنظیم کام کرتی ہے تو دوسری اس کی مخالف بن جاتی ہے، حالانکہ کام دونوں ایک ہی کر رہے ہوتے ہیں، اسے کیا عنوان دینا چاہیے۔؟آیت اللہ سید مجتبٰی حسینی:ایک حزب دینی اور ایک اسلامی تحریک کا یہ کام نہیں کہ وہ ایک ددوسرے کے مد مقابل آ جائیں اور مقابلہ بازی پر اُتر آئیں، اور یہ سوچے کہ اس کے مقابلہ میں دوسرے نہ آئیں، رہبر نے بھی آج تک جو حزب اللہ کی بھرپور حمایت کی ہے اس کی وجہ وہی ماحول ہے جس کی بنیاد پر حزب اللہ نے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جس بات پر زیادہ زور دیا گیا ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ہے۔ ایک دوسرے کا معاون بننا ہے۔ جو الٰہی تنظیمیں ہوتی ہیں وہ رقابت اور مقابلہ بازی سے اپنے آپ کو باہر نکالتی ہیں۔اسلام ٹائمز:پاکستان میں میڈیا اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایران کی نگاہ میں عوام اگر بحرین میں آل خلفیہ کیخلاف کھڑی ہو تو وہ عوامی اور اسلامی انقلاب کہلاتا ہے جبکہ شام میں بشارالاسد کیخلاف کھڑی ہو تو وہ بغاوت۔؟ اس حوالے سے آپ کا نکتہ نظر کیا ہے۔؟آیت اللہ سید مجتبٰی حسینی:بحرین اور شام کی صورتحال میں زمین آسمان کا فرق ہے، شام میں اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ امریکی سفارتخانے نے وہاں کے لوگوں کو پیسے کی ریل پیل کی اور انہیں شامی حکومت کی مخالفت پر اُکسایا۔ شام میں حکومت مخالف مظاہرے اتنے نہیں تھے جتنا میڈیا پر دکھایا گیا، چند سو افراد کو خوب کوریج دی جا رہی ہے، موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اب مظاہروں میں سوائے درجن افراد کے کوئی ساتھ نہیں دیتا، اب اس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جو مظاہرے بحرین میں ہوئے، اُن کی مغربی میڈیا نے کتنی کوریج کی اور مغربی ممالک نے اُن عوامی مظاہروں کو کتنا سپورٹ کیا جبکہ چند سو افراد شام میں احتجاج کیلئے کھڑے ہوئے تو انہیں کتنی اہمت دی گئی۔ یہ بات میڈیا پر آچکی ہے کہ صدر اوباما نے باقاعدہ بحرین کے مظاہرین کو کچلنے اور اُسے میڈیا پر نہ دیکھانے کیلئے اربوں ڈالرز خرچ کیے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت نے جس انداز میں اپنا کردار ادا کیا وہ سب جانتے ہیں۔ جبکہ شام میں امریکی میڈیا نے آسمان کو سر پر اُٹھا لیا۔ شام کی اہمیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ شام عرب ممالک میں وہ واحد حکومت ہے جس نے مظلوم فلسطینیوں کے کاز میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ دیگر ممالک نے الٹا شام کی مذمت کی ہے، وہ ممالک فلسطینیوں کا ساتھ نہیں دیتے اور ساتھ ہی امریکی ایما پر مخالفت بھی کرتے ہیں۔ شام وہ واحد ملک ہے جو اسرائیل کیلئے سردرد بنا ہوا ہے۔ شام نے حزب اللہ کا ساتھ دیا، اُس کے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں جو امریکیوں کو کسی طور پر قبول نہیں ہیں۔ شام کے عوام نے اس بات کو درک کر لیا ہے کہ اُن کے ملک میں سازش کے ذریعے حالات کشیدہ کیے جا رہے ہیں۔اسلام ٹائمز:وحدت بین الشیعہ کی حد فاصل کیا ہے۔؟آیت سید اللہ مجتبٰی حسینی: امام خمینی رہ کی ایک خاص روش تھی، امام رہ نے اپنے زمانے میں کبھی باطل کو اس کا نام لے کر نشانہ نہیں بنایا۔ باطل کا نام لے کر کبھی اس کے اعتراضات کا جواب نہیں دیا بلکہ اس کے حوالے سے دین نے بھی مخالفت کی ہے اور روکا ہے۔ دین نے یہ کہا ہے کہ اگر آپ باطل کا نام لے کر اس کے اعتراضات کے جوابات دینا شروع کر دیتے ہیں تو اس طرح سے خود باطل کی ترویج ہوتی ہے۔ جن لوگوں کو نہیں پتہ ان تک بھی وہ بات پہنچتی ہے اور ان کے ذہن کچے ہوتے ہیں اور وہ اس بات کو پختہ کر لیتے ہیں اور اس طرح باطل کو قبولیت ملتی ہے۔روش کیا ہے؟ روش کے لیے حدیث بیان کی گئی ہے کہ باطل کا ذکر چھوڑ دینے سے باطل خود بخود ہی مر جاتا ہے۔ اس کا ذکر کرو تو باطل زندہ ہو جاتا ہے، امام رہ کی روش بھی یہی تھی اور رہبر کی روش بھی یہی ہے۔ دوسرا یہ کہ باطل کو جواب ضرور دینا چاہیے، یہ نہیں کہ باطل کو جواب نہ دیں، لیکن اس کا انداز اور ہونا چاہیے۔ فلاں نے یہ بات کہی ہے اس کا جواب یہ ہے، یہ روش درست نہیں ہے، آپ نام لے کر جب کام کرتے ہیں تو اس کی ترویج ہوتی ہے۔ امام خمینی رہ کی نظر کتنی وسیع نظر تھی، وہی پیغمبرانہ نظر تھی، جس کی وجہ سے امام خمینی رہ کی گفتگو باقی تمام مراجع سے مختلف ہوتی تھی۔ جب کبھی کوئی واقعہ ہوتا تھا، کوئی سپاہی، کوئی فوجی گولی چلاتا تھا تو مراجع مطالبہ کرتے تھے کہ فلاں نے گولی چلائی ہے، اس کو پھانسی دی جائے، امام خمینی رہ فرماتے تھے، نہیں شاہ کے گرانے کا مطالبہ کرو، سپاہی تو آلہ کار ہے اس کا تو کوئی رول نہیں ہے۔ یہ انگلی ہے جس سے گولی چلی ہے، جو ارادہ ہے وہ شاہ ہے۔ لہذا تم اس کو نشانہ بناؤ، اسلئے امام خمینی رہ کا نشانہ شاہ ہوتا تھا، چھوٹے آلے کو کبھی نشانہ نہیں بناتے تھے۔ بہت سے جوان، مراجع عظام کی خاموشی پر برہم ہوتے تھے اور اعتراضات کرتے تھے اور فیضیہ میں اور اس کے اردگرد انہوں نے بعض اوقات مظاہرے بھی کئے۔ امام خمینی رہ نے جواب میں فرمایا کہ میں مراجع کے ہاتھوں کا بوسہ لیتا ہوں۔ یعنی مراجع کی مراجعیت کے اس مقام کا احترام کرتا ہوں۔ بعض اعتراضات کے باوجود امام خمینی رہ نے اپنے بیٹے احمد خمینی کو حکم دیا کہ تم جاؤ اور فلاں مرجع کے پیچھے نماز پڑھو اور وہ ان کے پیچھے نماز پڑھ کر یہ بتاتے تھے کہ امام خمینی رہ کی نظر وہ نہیں ہے جو عام لوگوں کی نظر ہے۔ یعنی وہ وسیع النظری کا ثبوت دیا کرتے تھے، تو آپ لوگوں کو بھی اس چیز کے حوالے سے سوچنا چاہیے اور اس کی پیروی کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ پیغمبر اسلام  ص کی روش بھی یہی رہی ہے۔ پیغمبر اسلام ص کی محفل میں کچھ لوگ آتے تھے جو کہتے تھے کہ ہم بڑے آپ کے چاہنے والے ہیں، پیغمبر اسلام ص فرماتے تھے کہ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو، تم چاہنے والے ہو، بہت اچھے ہو، جب وہ واپس چلے جاتے تھے تو پھر کہتے تھے کہ پیغمبر (ص) بہت سیدھا سادھا آدمی ہے کہ جو ہم نے کہا اس نے ہاں کر دی۔ قرآن کی آیت نازل ہوئی کہ ان سے کہو کہ پیغمبر اسلام ص اگر سن کر ہاں کرتے ہیں تو تمہاری بہتری کے لیے کرتے ہیں ورنہ پیغمبر ص کو کیا تمہارے بارے میں پتہ نہیں تھا کہ تم کیا ہو۔ جو لوگ آ کر کہتے تھے کہ ہم آپ ص کے ساتھ ہیں تو ان کو پیغمبر اسلام ص یہ نہیں کہتے تھے کہ تم اندر سے کھوٹے ہو بلکہ کہتے تھے کہ تم بالکل صحیح کہتے ہو، یہ وہ پیغمبرانہ روش ہے، اس کو اگر آپ معاشرے میں زندہ کریں گے تو آپ کے مخالفین کی تعداد بھی کم ہو گی۔ جو آپ کے انحرافی لوگ ہیں ان کی تعداد میں کمی ہو گی، زیادتی نہیں ہو گی۔ اسی طرح سے اس روش سے قوم میں فاصلے پیدا نہیں ہوں گے، قوم کے اندر نفرتیں پیدا نہیں ہوں گی اور اگر آپ ذکر کر کے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں تو اس کے نتیجے میں پھر گروپ بندیاں شروع ہو جاتی ہیں اور گروپ بندیاں سب سے زیادہ مہلک ہیں۔اسلام ٹائمز:دیگر مکاتب فکر سے روابط اور تعلقات کیلئے کیا روش اختیار کی جانی چاہیے۔؟آیت اللہ مجتبٰی حسی